21 اگست 2026 - 20:15
حصۂ دوئم قرآن؛ انقلابی طرزِ عمل کا نقشۂ راہ؛ ایمان و بصیرت سے جہاد، عدالت اور تہذیب سازی تک

اگر توحید کو انقلابی طرزِ عمل کا نقطۂ آغاز سمجھیں تو قرآن، کتاب ہدایت اور نورانیت کا سرچشمہ ہے جو اس طرزِ عمل کی راہ روشن کرتا ہے۔ انقلابی طرزِ عمل، قرآن سے ارتباط کے بغیر، ممکن ہے کہ ایک سطحی سیاسی، سماجی یا حتیٰ کہ 'ناقابلِ حصول مثالیتی تحریک' بن کر رہ جائے۔ جب انقلابی فکر، اخلاق اور عمل قرآنی منظومے میں داخل ہو جاتا ہے تو انسان کی حرکت واقعات کے سطحی ردِ عمل سے آگے بڑھ کر رسالت (مشن)، ذمہ داری اور مستقبل کی تعمیر سے جُڑ جاتی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ قرآنی نگاہ کے ذریعے انقلابی طرزِ عمل کو دیکھتے ہوئے، گہرا سوال یہ اٹھتا ہے کہ قرآن نے انسان، معاشرے، دشمن، طاقت، عدالت، مزاحمت و مقاومت، امید، عوام اور مستقبل کے بارے میں امامِ مجاہدِ شہید سید علی خامنہ ای، (طاب ثراہ) کے نظریئے کو کس طرح متاثر کیا ہے؟

حصۂ دوئم:

تقویٰ؛ طاقت اور طرز عمل پر کنٹرول

قرآن کے کلیدی مفاہیم میں سے ایک، جو فردی طرزِ عمل اور حکمرانی کے لئے خاص اہمیت رکھتا ہے، تقویٰ ہے۔ تقویٰ صرف انفرادی گناہ سے بچنے کا نام نہیں؛ بلکہ حق سے انحراف کے خلاف اپنی ذات کی مستقل نگرانی ہے۔

طاقت کے میدان میں تقویٰ کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے کیونکہ طاقت اگر تقویٰ کے ہمراہ نہ ہو تو تکبر، بدعنوانی، امتیازی سلوک، اور عوام سے دوری کا باعث بن سکتی ہے۔

قرآن فرماتا ہے:

"إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ؛

بیشک تم میں سے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔" (سورہ حجرات، آیت 13)

یہ آیت، انسان کی قدر کے معیار کو دولت، طاقت، منصب اور نسب سے الگ کرکے تقویٰ سے جوڑ دیتی ہے۔ اسی طرزِ فکر کے ساتھ، انقلابی طرزِ عمل کے سب سے اہم تقاضوں میں سے ایک 'طاقت کا تقویٰٔ' ہے؛ یعنی انسان جتنی زیادہ ذمہ داری پاتا ہے، اسے اپنے، اپنے طرز سلوک اور اپنے فیصلوں کی اتنی ہی زیادہ نگرانی کرنی چاہئے۔

بصیرت؛ واقعات کے پس پردہ دیکھنے کی صلاحیت

انقلابی طرزِ عمل، بصیرت کے بغیر، انسان کو اندازوں اور تخمینوں کی غلطی اور تزویراتی خطا سے دوچار کر دیتا ہے۔

قرآن کریم فرماتا ہے:

"قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي؛

 کہئے کہ یہ ہے میرا راستہ، میں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں پوری بصیرت و آگہی کے ساتھ، میں بھی اور وہ بھی جو میرا پیرو ہے۔ (سورہ یوسف، آیت 108)۔

اس آیت میں، الٰہی دعوت بصیرت کے ساتھ ہمراہ ہو گئی ہے۔ بصیرت کا مطلب ہے '[باطنی] حقیقت' کو 'ظاہر'  سے تمیز دینے کی صلاحیت، اصل مسئلہ کو فرعی مسائل سے تشخیص دینا، دوست کو دشمن سے الگ کرنے کی صلاحیت، 'موقع' کو 'خطرے' سے تشخیص دینا اور کسی فیصلے کے نتائج میں الجھنے سے پہلے اس کے انجام و اثرات کو دیکھنے کی صلاحیت۔ انقلابی طرزِ عمل میں دشمن کی پہچان بصیرت کے بغیر ممکن نہیں ہے؛ موقع کی شناخت بصیرت کے بغیر ممکن نہیں ہے؛ درست فیصلہ سازی بصیرت کے بغیر ممکن نہیں ہے اور حتیٰ کہ حق کا دفاع بھی بصیرت کے بغیر الٹا نتیجہ دے سکتا ہے۔ چنانچہ بصیرت کو انقلابی معاشرے کے تزویراتی سرمایوں کے زمرے میں شمار کرنا چاہئے۔

صبر؛ حرکت کے تسلسل کی شرط:

عظیم تاریخی تحریکیں، صبر اور استقامت کے بغیر قائم نہیں رہتیں۔ قرآن بارہا مؤمنین کو صبر کی دعوت دیتا ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ؛

اے ایمان والو! ضبط و تحمل سے کام لو اور دوسروں کے مقابلے میں پامردی کا ثبوت دو اور سرحدوں پر مورچے مضبوط رکھو اور اللہ کی ناراضگی سے بچنے کا خیال رکھو۔ شاید کہ تم دین و دنیا کی بہتری حاصل کر لو۔" (سورہ آل عمران، سورہ 200)۔

یہاں صبر ایک غیرفعال (اور انفعالی) حالت نہیں ہے۔

انقلابی صبر کا مطلب ہے:

سمت کے تحفظ سے پیدا ہونے والی مشکلات کی برداشت کو عمل کے تسلسل اور جذباتی فیصلوں سے بچاؤ کے ساتھ ہم آہنگ کرنا۔ جو معاشرہ پہلے ہی بحران میں اپنے اہداف و مقاصد ترک کر دے، وہ عظیم تاریخی اہداف کو انجام تک نہیں پہنچا سکتا۔ چنانچہ صبر تزویراتی تحمل کو تشکیل دینے والے عناصر میں سے ایک ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: آیت اللہ عباس کعبی، مورخہ 20 اگست 2026ع‍

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha